السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ، فَذَكَرَ دُخُولَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ:" أُدْعَى نَبِيًّا"، فَقُلْتُ: وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ:" أَرْسَلَنِي اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى"، فَقُلْتُ: بِأِيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟، فَقَالَ:" أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ لَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ"، قُلْتُ لَهُ: فَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ:" حُرٌّ وَعَبْدٌ"، قَالَ: وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ میں آئے، میں نے کہا: آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے نبی کہتے ہیں“، میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے“۔ میں نے کہا: کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ نے صلہ رحمی، بتوں کو توڑنے اور یہ کہ توحید کا اقرار کیا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے“۔ میں نے کہا: کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آزاد اور غلام کے ساتھ“۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دن سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 832»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13095 in Urdu