السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2703. -- باب: السنة في كتبة أسامي أهل الفيء
-- باب: مالِ فے کے حقداروں کے نام لکھنے میں سنت کا بیان
حدیث نمبر: 13100
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ:" عَائِشَةُ"، فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا"، فَقُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ"، قَالَ: فَعَدَّ رِجَالًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ. وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟" قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَأَحِبِّي هَذِهِ"، يُرِيدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ؛ فَإِنَّهُ وَاللهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا". وَأَمَّا عَدِيُّ بْنُ كَعْبٍ فَإِنَّهُ كَانَ أَخًا لِمُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ، وَأَمَّا سَهْمٌ وَجُمَحٌ فَإِنَّهُمَا ابْنَا عَمْرِو بْنِ هُصَيْصِ بْنِ كَعْبٍ، إِلَّا أَنَّ الْقَبِيلَةَ اشْتُهِرَتْ بِهِمَا فَنُسِبَتْ إِلَيْهِمَا. ⦗٦٠٢⦘ وَإِنَّمَا قَدَّمَ بَنِي جُمَحٍ، قِيلَ: لِأَجْلِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ وَمَا كَانَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِنْ إِعَارَةِ السِّلَاحِ، وَقَوْلِهِ حِينَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَكَلَدَةُ مَا قَالَا: فَضَّ اللهُ فَاكَ، فَوَاللهِ لَأَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ، وَقِيلَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَصْدًا إِلَى تَأْخِيرِ حَقِّهِ، فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤِيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرٍ..
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذات السلاسل کے لشکر میں بھیجا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ۔“ میں نے عرض کیا: ”مردوں میں سے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے والد۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد نام لیے۔
(ب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”کیوں نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے محبت کرو۔“ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے عائشہ کے بارے میں اذیت نہ دو، اللہ کی قسم! جب بھی وحی نازل ہوئی، میں اس کے علاوہ تم میں سے کسی بیوی کے بستر میں نہیں ہوتا تھا۔“ اور عدی بن کعب، مرہ بن کعب کے بھائی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13100]
(ب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”کیوں نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے محبت کرو۔“ یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے عائشہ کے بارے میں اذیت نہ دو، اللہ کی قسم! جب بھی وحی نازل ہوئی، میں اس کے علاوہ تم میں سے کسی بیوی کے بستر میں نہیں ہوتا تھا۔“ اور عدی بن کعب، مرہ بن کعب کے بھائی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13100]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13100 in Urdu