🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2706. -- باب: ما جاء في ترتيبهم
-- باب: ان (لوگوں) کی ترتیب کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13110
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُرُوجِهِ وَرُجُوعِهِ، قَالَ: حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ". فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْنَا آخِرَهَا دَارًا؟ فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَ دُورَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلْتَنَا آخِرَهَا، فَقَالَ:" أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ؟" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے۔ (راوی نے) سب کچھ نکلنا اور لوٹنا بیان کیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”انصار کے بہترین گھر بنی نجار کے گھر ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے گھر ہیں، پھر بنی حارث کے گھر ہیں، پھر بنی ساعدہ کے گھر ہیں اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔“ پس ہم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ملے۔ سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ پس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے انصار کے گھروں کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں آخر پر رکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم بہترین لوگوں میں سے ہو؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 13110]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1492»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13110 in Urdu