السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2720. -- باب: الخليفة ووالي الإقليم العظيم الذي لا يلي قبض الصدقة ليس لهما في سهم العاملين عليها حق
-- باب: خلیفہ اور بڑے صوبے کا گورنر جو براہ راست صدقہ وصول کرنے کے نگران نہیں ہوتے ان کا صدقہ وصول کرنے والوں کے حصے میں کوئی حق نہیں ہے
حدیث نمبر: 13165
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، قَدِمَ بِصَدَقَاتٍ سَعَى عَلَيْهَا، فَلَمَّا قَدِمَ الْحَرَّةَ خَرَجَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ تَمْرًا وَلَبَنًا وَزُبْدًا، فَأَكَلُوا وَأَبَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالَ ابْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: وَاللهِ أَصْلَحَكَ اللهُ إِنَّا نَشْرَبُ أَلْبَانَهَا وَنُصِيبُ مِنْهَا، فَقَالَ:" يَا ابْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكَ إِنَّكَ وَاللهِ تَتْبَعُ أَذْنَابَهَا".
سیدنا سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی ربیعہ صدقات کا مال لے کر چلے جن پر وہ عامل تھے۔ جب حرہ نامی جگہ پہنچے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس نکل کر آئے، انہوں (ابن ابی ربیعہ) نے کھجور، دودھ اور مکھن ان کے قریب کیا، دوسروں نے کھایا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے انکار کیا۔ ابن ابی ربیعہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہاری اصلاح کرے، ہم ان کا دودھ پیتے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”اے ابن ابی ربیعہ! میں تمہاری طرح نہیں ہوں، اللہ کی قسم! آپ تو ان کی دموں کے پیچھے چلتے ہو۔“ (یعنی ان کی دیکھ بھال کرتے ہو)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13165]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13165 in Urdu