🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2725. -- باب: من يعطي من المؤلفة قلوبهم من سهم المصالح رجاء أن يسلم
-- باب: مؤلفۃ القلوب میں سے کسی شخص کو مصالح کے حصے میں سے اس امید پر دینے کا بیان کہ وہ اسلام لے آئے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13188
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ، ثنا الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، وَاللَّفْظُ، لَهُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ:" أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ: إنْ ⦗٣١⦘ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دو پہاڑوں کے درمیان جو بکریاں تھیں مانگ لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دے دیں، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مسلمان ہو جاؤ، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسا دیتے ہیں جیسے انہیں فقر کا کوئی ڈر نہیں“، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی صرف دنیا کے حصول کے لیے اسلام قبول کرتا تھا، پھر وہ اسلام قبول کرتے ہی (تھوڑے عرصے میں) ایسا ہو جاتا کہ اسلام اسے دنیا اور اس کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13188]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13188M
Not Found.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقات کی اقسام میں تالیفِ قلب کے لیے حصہ ہے، جس کو سب نے پچھلی حدیث سے یاد رکھا ہے کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: صدقات کے تین سو اونٹ اس کی قوم نے دیے ہیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیس اونٹ دیے اور حکم دیا کہ انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، چونکہ ان کی قوم نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے تو وہ ایک ہزار افراد کی ٹولی کے پاس آئے۔ حدیث میں یہ وضاحت نہیں کہ انہوں نے کہاں سے دیے تو لگتا ہے کہ صرف احادیث سے استدلالات ہیں۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔ انہوں نے خاص «مُؤَلَّفَةِ الْقُلُوبِ» ”تالیفِ قلب والوں“ والے حصے سے دیا اور انہیں زیادہ دیا، تاکہ ان کی اس میں رغبت زیادہ ہو۔ ان کے علاوہ دوسری قوم کو تالیفِ قلب کے لیے دیا؛ کیونکہ وہ قوم عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی قوم کی طرح پختہ مسلمان نہ تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13188M]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13188 in Urdu