السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2730. -- باب: سهم سبيل الله
-- باب: فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے) کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 13201
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أُنَاسًا يَأْخُذُونَ مِنْ هَذَا الْمَالِ لِيُجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ يُخَالِفُونَ وَلَا يُجَاهِدُونَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمَالِهِ حَتَّى نَأْخُذَ مِنْهُ مَا أَخَذَ" قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَقُمْتُ إِلَى أُسَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا حَدَّثَنِي بِهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي قُرَّةَ وَحَدَّثْتُهُ بِهِ؟ فَقَالَ: صَدَقَ جَاءَنَا بِهِ كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
عمرو بن ابی قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، اس میں لکھا تھا کہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑنے کے لیے مال لے لیتے ہیں، پھر وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے، جس نے یہ کام کیا ہم زیادہ حق دار ہیں اس مال کے یہاں تک کہ ہم ان سے وہ مال لے لیں جو انہوں نے جہاد کے نام پر لیا۔
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13201]
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اسید بن عمرو کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے دیکھا جو عمرو بن ابی قرہ نے مجھ سے بیان کیا ہے؟ اور میں نے انہیں وہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط یہی (حکم) لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13201]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابن ابي شيبه 32826»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13201 in Urdu