🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2745. -- باب: ما وجب عليه من تخيير النساء
-- باب: آپ ﷺ پر بیویوں کو اختیار دینے کے وجوب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالَا: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ⦗٦١⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا عَلَى بَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ سَاكِتٌ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ رَأَيْتَ ابْنَةَ خَارِجَةَ سَأَلْتَنِي النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَهُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ" قَالَ: فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ فَوَجَأَ عُنُقَهَا، وَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى حَفْصَةَ فَوَجَأَ عُنُقَهَا، وَكِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ فَقُلْنَ: وَاللهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا أَوْ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا، ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا} [الأحزاب: ٢٨] ، حَتَّى بَلَغَ {لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: ٢٩] قَالَ: فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا، فَأُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ" قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوِيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللهَ وَرَسُولَهُ أَسْأَلُكَ، أَلَّا تُخَيِّرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتَ، قَالَ:" لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا، إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، کسی ایک کو بھی اجازت نہ دی گئی، صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی۔ وہ داخل ہو گئے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اجازت مانگی ان کو بھی اجازت دے دی گئی، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے اردگرد پریشانی اور خاموشی سے بیٹھے تھے، راوی کہتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں ایسی بات کہوں گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسا دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے خارجہ کی بیٹی کے بارے میں، وہ مجھ سے نفقہ کا سوال کرتی ہے، میں اس کے پاس گیا اور اس کی گردن پر مارا۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”میرے اردگرد بھی یہ نفقہ (خرچہ) کا سوال کر رہی ہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور ان کی گردن پر مارا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور ان کی گردن پر مارا اور ان دونوں نے کہا: ”تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو۔“
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ایک مہینہ یا انتیس (29) دن کے لیے علیحدہ ہو گئے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ﴾ [سورة الأحزاب: 28] ۔ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابتدا کی اور فرمایا: ”اے عائشہ! میں تجھ سے ایسی بات کرنے والا ہوں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ تو اس میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کر لے۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: ”وہ کیا بات ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتِ مبارک پڑھی (جو پیچھے گزری ہے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی! نہیں بلکہ میں نے اللہ اور اس کا رسول منتخب کر لیا ہے، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی دوسری بیویوں سے یہ بات نہ کہنا جو میں نے کہی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر کسی نے مجھ سے پوچھا تو میں اسے بتلا دوں گا، «إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا» ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تنگی کرنے والا اور دوسروں کو مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا، بلکہ اس نے مجھے معلم اور آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13268]
تخریج الحدیث: «مسلم 1478»

الحكم على الحديث: مسلم 1478

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13268 in Urdu