السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2745. -- باب: ما وجب عليه من تخيير النساء
-- باب: آپ ﷺ پر بیویوں کو اختیار دینے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 13268
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ قَالَا: ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ⦗٦١⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا عَلَى بَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ سَاكِتٌ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ رَأَيْتَ ابْنَةَ خَارِجَةَ سَأَلْتَنِي النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَهُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ" قَالَ: فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ فَوَجَأَ عُنُقَهَا، وَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى حَفْصَةَ فَوَجَأَ عُنُقَهَا، وَكِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ فَقُلْنَ: وَاللهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا أَوْ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا، ثُمَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا} [الأحزاب: ٢٨] ، حَتَّى بَلَغَ {لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: ٢٩] قَالَ: فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا، فَأُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ" قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوِيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللهَ وَرَسُولَهُ أَسْأَلُكَ، أَلَّا تُخَيِّرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتَ، قَالَ:" لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا، إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
(١٣٢٦٨) جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی۔ لوگوں کو دیکھا کہ وہ آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے۔ کسی ایک کو بھی اجازت نہ دی گئی، صرف ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی۔ وہ داخل ہوگئے پھر عمر رضی اللہ عنہ، آئے، انھوں نے اجازت مانگی ان کو بھی اجازت دے دی گئی، اس نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے اردگرد پریشانی اور خاموشی سے بیٹھے تھے، راوی کہتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسی بات کہوں گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنساؤں گا، کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے، خارجۃ کی بیٹی کے بارے میں وہ مجھ سے نفقہ کا سوال کرتی ہے، میں اس کی طرف جاؤں گا اور اس کی گردن پر ماروں گا، راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: میرے اردگرد بھی یہ نفقہ (خرچہ) کا سوال کرتی ہیں، راوی کہتا ہے کہ ابوبکر کھڑے ہوئے عائشہ کی طرف، اس کے سر میں مارا، عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے حفصہ رضی اللہ عنہ کی طرف اور ان کو ڈانٹا اور ان دونوں نے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا سوال نہیں کریں گے جو آپ کے پاس نہ ہو۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ایک مہینہ یا ٢٩ دن کے لیے علیحدہ ہوگئے۔ پھر یہ آیات نازل ہوئیں: { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ۔۔۔} [الاحزاب ٢٨] راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ سے ابتدا کی اور فرمایا: اے عائشہ! میں تجھ سے ایسی بات کرنے والا ہوں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ تو اس میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلے تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارک پڑھی: (جو پیچھے گزری ہے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں! نہیں بلکہ میں نے اللہ اور اس کا رسول منتخب کرلیا ہے، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی دوسری بیویوں سے یہ بات نہ کہنا جو میں نے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں اگر کسی نے مجھ سے پوچھا تو میں اسے بتلا دوں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے تنگی کرنے والا نہیں بلکہ سکھلانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13268]
پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ایک مہینہ یا ٢٩ دن کے لیے علیحدہ ہوگئے۔ پھر یہ آیات نازل ہوئیں: { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ۔۔۔} [الاحزاب ٢٨] راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ سے ابتدا کی اور فرمایا: اے عائشہ! میں تجھ سے ایسی بات کرنے والا ہوں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ تو اس میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلے تو عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارک پڑھی: (جو پیچھے گزری ہے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں! نہیں بلکہ میں نے اللہ اور اس کا رسول منتخب کرلیا ہے، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی دوسری بیویوں سے یہ بات نہ کہنا جو میں نے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں اگر کسی نے مجھ سے پوچھا تو میں اسے بتلا دوں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے تنگی کرنے والا نہیں بلکہ سکھلانے والا آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13268]
تخریج الحدیث: «مسلم 1478»
الحكم على الحديث: مسلم 1478
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13268 in Urdu