السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
282. -- باب: ما ورد في ترك التوقيت
-- باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1328
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ ⦗٤٢٠⦘ بِالْكُوفَةِ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ مَوْلَى خُزَاعَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، كَذَا قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: بِالْكَسْرِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عِمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ" نَعَمْ" قَالَ: يَوْمًا؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: وَيَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَيَوْمَيْنِ قَالَ: وَثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" حَتَّى عَدَّ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ مَا بَدَا لَكَ" هَكَذَا فِي رِوَايَتِنَا وَقِيلَ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ هَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: قَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: هَذَا إِسْنَادٌ لَا يَثْبُتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلَافًا كَثِيرًا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابو عبید نے کسرہ کے ساتھ نقل کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارہ کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ایک دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پھر پوچھا: دو دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تین دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ یہاں تک کہ سات شمار کیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جو تیرے لیے ظاہر ہو۔“
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ حدیث قوی نہیں۔ (ج) علی بن عمر کہتے ہیں کہ یہ سند ثابت نہیں، اس میں راوی یحییٰ بن ایوب پر شدید اختلاف ہے۔ (د) عبدالرحمن، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن یہ سارے راوی مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1328]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یہ حدیث قوی نہیں۔ (ج) علی بن عمر کہتے ہیں کہ یہ سند ثابت نہیں، اس میں راوی یحییٰ بن ایوب پر شدید اختلاف ہے۔ (د) عبدالرحمن، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن یہ سارے راوی مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1328 in Urdu