🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2749. -- باب: لم يكن له إذا لبس لأمته أن ينزعها حتى يلقى العدو ولو بنفسه
-- باب: یہ جائز نہیں تھا کہ جب آپ اپنی زرہ پہن لیں تو دشمن سے مقابلہ کیے بغیر اسے اتاریں، خواہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُهُ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ فَيُقَاتِلَهُمْ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ نَاسٌ لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا تَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلُهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا ⦗٦٦⦘ أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ، مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِهِ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ، ثُمَّ نَدِمُوا، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ" قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ:" إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَإِنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ فُلَّ، فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار کو (مالِ غنیمت میں سے) زائد حصے کے طور پر لیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن خواب دیکھا، وہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے احد والے دن جب مشرکین آئے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان سے لڑائی کی جائے تو جو لوگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ان سے باہر نکل کر قتال کریں گے، انہیں امید تھی کہ وہ بدر والوں کی فضیلت حاصل کر لیں گے، انہوں نے اصرار کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس پہن لیا، پھر ان لوگوں کو ندامت ہوئی اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! (مدینہ میں) ٹھہر جائیے، فیصلہ درحقیقت وہی ہے جو آپ کا فیصلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کی شان نہیں کہ وہ جنگی لباس پہننے کے بعد اتار دے یہاں تک کہ اللہ اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ کر دے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جنگی ہتھیار پہننے سے پہلے کہا: ”میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعے میں ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ مدینہ شہر ہے، پھر میں نے دیکھا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک مینڈھا سوار کر رکھا ہے تو میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ وہ (دشمن کے) لشکر کا سردار ہے، میں نے اپنی تلوار ذوالفقار دیکھی کہ اس میں دندانے پڑ گئے ہیں تو تم میں کوئی خرابی ہوگی، بعد میں گائے ذبح ہوتے دیکھی، گائے اللہ کی بھلائی ہے“، دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13282]
تخریج الحدیث: «بخاري 3860۔ مسلم 2327»

الحكم على الحديث: بخاري 3860

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13282 in Urdu