🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2754. -- باب: ما أمره الله تعالى به من أن يدفع بالتي هي أحسن السيئة، فقال: {ادفع بالتي هي أحسن}
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کا حکم دیا، پس فرمایا: ”برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سب سے اچھا ہو“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13300
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ نَصْرٍ الْبَزَّازُ دُرُسْتَ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ، فَقَالَ:" أَجَلْ وَاللهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْفُرْقَانِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: ٤٥] ، وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ" الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا صَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ أَقْبِضَهُ حَتَّى أُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، وَأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَفْتَحَ بِهِ أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا" قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ لَقِيتُ كَعْبَ الْحَبْرَ، فَسَأَلْتُهُ فَمَا اخْتَلَفَا فِي حَرْفٍ إِلَّا أَنَّ كَعْبًا يَقُولُ: أَعْيُنًا عَمَوِيًّا وَقُلُوبًا غُلُوفًا وَآذَانًا صُمُومًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سَلْمَانَ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا، میں نے ان سے کہا کہ جو توراۃ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ذکر ہوئے ہیں مجھے ان کی خبر دیجیے۔ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات قرآن میں ہیں، ان میں سے بعض صفات توراۃ میں بھی ذکر کی گئی ہیں، یعنی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 45] اور ان پڑھوں (امیوں) کے لیے پناہ گاہ (بنا کر بھیجا) کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندے اور میرے رسول ہیں، میں نے آپ کا نام 'متوکل' (اللہ پر توکل کرنے والا) رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو برے اخلاق والے ہیں اور نہ ہی سخت طبیعت والے ہیں اور نہ ہی بازار میں چیخ چیخ کر بولنے والے ہیں اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو درگزر کرتے اور معاف کرتے ہیں۔ میں آپ کو ہرگز فوت نہیں کروں گا، یہاں تک کہ ٹیڑھے سیدھے کھڑے ہوجائیں اور وہ یہ کہہ دیں کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے“ اور میں تیرے ذریعے اندھوں کو آنکھیں دوں گا، بہروں کو کان اور غافل دلوں کو دل عطا کروں گا“۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کعب عالم رحمہ اللہ سے ملا، میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا اور ایک حرف کا بھی فرق نہیں آیا، سوائے ان الفاظ کے کہ: «أَعْيُنًا عُمْيًا، وَقُلُوبًا غُلْفًا، وَآذَانًا صُمًّا» ”کہ ہماری آنکھیں اندھی ہیں، دل پردے میں ہیں اور کانوں میں ڈاٹ ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13300]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2125»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13300 in Urdu