السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2754. -- باب: ما أمره الله تعالى به من أن يدفع بالتي هي أحسن السيئة، فقال: {ادفع بالتي هي أحسن}
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے کا حکم دیا، پس فرمایا: ”برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سب سے اچھا ہو“
حدیث نمبر: 13302
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ:" مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ خَادِمًا قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ شَيْئًا بِيَمِينِهِ قَطُّ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَانْتَقَمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللهِ فَيَنْتَقِمُ لَهَا، وَمَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الآخَرِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی کو کبھی نہیں مارا، نہ اپنے خادموں کو اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے کوئی چیز ماری سوائے جہاد فی سبیل اللہ کے، اور ایسی بھی کوئی چیز نہیں پائی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے انتقام لیا ہو، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کی بے حرمتی کی جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے انتقام لیتے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں اختیار دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ آسان چیز کو پسند کیا، جب تک اس میں کوئی برائی نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی برائی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نسبت اس چیز سے زیادہ دور ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13302]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 2327»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13302 in Urdu