السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2756. -- باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى
-- باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ وَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا".
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت میں اختیار دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو پسند کیا اور دنیا کا ارادہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13320]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13320 in Urdu