🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2764. -- باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام
-- باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13334
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٢⦘ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يَسْكُنُ دِمَشْقَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَلَكَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْرَأْ قَالَ: فَقُلْتُ:" مَا أَنَا بِقَارِئٍ"، ثُمَّ عَادَ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَعَادَ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ} [العلق: ٢] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَسَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" فَزُمِّلَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ لِخَدِيجَةَ:" لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي" قَالَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَبْشِرْ، فَوَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ، انْطَلِقْ بِنَا، فَانْطَلَقَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَهُ اللهُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟" قَالَ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا".
ایک فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”پڑھ“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے پھر کہا: ”پڑھیے“، میں نے کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے پھر اس بات کو لوٹایا، پھر اس نے کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ [سورة العلق: 1-2] ”پڑھیے، اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔“
محمد بن نعمان کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ (آیات) لے کر واپس لوٹے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر کو کہتے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چادر اوڑھا دی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (خوف کی) کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے اپنی جان کا خوف ہو گیا تھا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوش ہو جائیے، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ سچ بولتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ہمارے ساتھ چلیے۔ چنانچہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، وہ عیسائی ہو چکے تھے، بوڑھے نابینا تھے اور انجیل عربی میں پڑھتے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا زاد! اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا انہیں بتا دیا، تو ورقہ بن نوفل نے کہا: یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا، کاش! میں اس وقت (زندہ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، جو شخص بھی آپ جیسا پیغام لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر آپ کا وہ دن مجھے مل گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13334]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 160»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13334 in Urdu