السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2764. -- باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام
-- باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
حدیث نمبر: 13338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، کئی مرتبہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا، جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور وہ (صحابہ) باتیں کرتے اور جاہلیت کے قصے سناتے تھے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13338]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2322»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13338 in Urdu