السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
282. -- باب: ما ورد في ترك التوقيت
-- باب: مدت مقرر نہ ہونے (ترکِ توقیت) کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 1334
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَلَوِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، مِثْلَهُ، وَقَالَ: أَصَبْتُ السُّنَّةَ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ التَّوْقِيتَ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَجَعَ إِلَيْهِ حِينَ جَاءَهُ التَّثَبُّتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْقِيتِ وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ الْمَشْهُورَةَ أَوْلَى وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَا يُوَقِّتُ فِيهِ وَقْتًا.
(الف) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”تو نے سنت کو پا لیا ہے۔“
(ب) ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مسح کی مدت بیان کی ہے۔ یا تو انہوں نے اس کی طرف رجوع کر لیا جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدت کے متعلق پختہ روایت پہنچی، یا ان کا وہ قول جو سنت مشہورہ کے موافق ہے، اولیٰ ہے۔ (ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1334]
(ب) ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مسح کی مدت بیان کی ہے۔ یا تو انہوں نے اس کی طرف رجوع کر لیا جب انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدت کے متعلق پختہ روایت پہنچی، یا ان کا وہ قول جو سنت مشہورہ کے موافق ہے، اولیٰ ہے۔ (ج) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ مدت مقرر نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1334 in Urdu