السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2766. -- باب: كان يؤخذ عن الدنيا، عند تلقي الوحي وهو مطالب بأحكامها عند الأخذ عنها
-- باب: وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی توجہ دنیا سے ہٹا لی جاتی تھی حالانکہ آپ وحی لیتے وقت ان (دنیاوی) احکام کے مکلف تھے
حدیث نمبر: 13344
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ: وَكَانَ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ سے اعراض کر رہے تھے، ہم آپ کے پاس سے چلے تو میرے باپ نے مجھ سے کہا: کیا تو نے میرے بھتیجے کی طرف دیکھا گویا کہ وہ مجھ سے اعراض کر رہا تھا؟ میں نے ان سے کہا: ابا جان! ان کے پاس ایک آدمی تھا، جن سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا ان کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، ہم واپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے اس اس طرح کہا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی جواب دیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اے عبداللہ! کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرائیل تھے جن کے ساتھ میں مصروف تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13344]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسند احمد 2679»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13344 in Urdu