السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2771. -- باب: ما أبيح له من النكاح بغير ولي وبغير شاهدين استدلالا بجواز الموهوبة
-- باب: ہبہ کی گئی عورت کے جواز سے استدلال کرتے ہوئے آپ ﷺ کے لیے بغیر ولی اور بغیر دو گواہوں کے نکاح کے مباح ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13358
وَبِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَا، قَالُوا: ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ قَالَ: فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِسْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ قَالَ: فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيءَ بِالْأَنْطَاعِ، فَوُضِعَتْ فِيهَا، ثُمَّ جِيءَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ: وَقَدْ قَالَ النَّاسُ: لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ قَالَ: فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا، فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُرْكِبَهَا حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَفَّانَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک لونڈی آئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: ”اے اللہ کے نبی! دحیہ کے حصے میں خوبصورت لونڈی آئی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «تِسْعَةِ أَرْؤُسٍ» ”نو جانوں“ کے بدلے خرید لیا۔ پھر اس کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ اس کو تیار کر دیں، راوی کہتا ہے کہ میرا خیال ہے وہ اپنے گھر میں عدت گزار رہی تھیں اور وہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور، پنیر اور گھی سے ولیمہ کیا۔ زمین کرید کرید کر برابر کر دی گئی اور پھر دستر خوان لایا گیا، وہ بچھایا گیا۔ پھر کھجور، پنیر اور گھی کو لایا گیا اور لوگ سیر ہو گئے۔ راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے کہا: ”ہم نہیں جانتے کہ یہ لونڈی ہے کہ بیوی۔“ راوی کہتا ہے: انہوں نے کہا: ”اگر انہوں نے پردہ کیا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں، اگر پردہ نہ کیا تو لونڈی ہوں گی۔“ جب انہوں نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے پردہ کر لیا یہاں تک کہ وہ اونٹ کی پچھلی طرف بیٹھ گئیں تو انہوں نے پہچان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کر لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13358]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 1365»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13358 in Urdu