🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2777. -- باب: ما أبيح له من أربعة أخماس الفيء وخمس خمس الفيء والغنيمة
-- باب: آپ ﷺ کے لیے مالِ فے کے بقیہ چار حصوں اور مالِ فے و مالِ غنیمت کے خمس (پانچویں حصے) کے پانچویں حصے کے مباح ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رِمَالٍ، فَقَالَ: يَا مَالِكُ إِنَّهُ قَدْ نَزَلَ عَلَيْنَا ⦗٩٤⦘ دَوَافٌّ مِنْ قَوْمِكَ، فَخُذْ هَذَا الْمَالَ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلِذَلِكَ غَيْرِي؟ فَقَالَ: خُذْهَا عَنْكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَسَعْدٍ؟ قَالَ: قُلْ لَهُمْ فَلْيَدْخُلُوا، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ قَالَ: قُلْ لَهُمَا فَلْيَدْخُلَا، فَدَخَلَا وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ، فَلَمَّا جَلَسُوا، قَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَارْحَمْهُمَا قَالَ: أَنْشُدُكُمَا اللهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ هَلْ عَلِمْتُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا لَا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ"؟ يَعْنِي، فَقَالَا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ لِلْآخَرِينَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَعَمْ قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ، مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ،" فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عِدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ هِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً" أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.
مالک بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف ایک آدمی بھیجا، میں آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کھجور کے پتوں کی ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: ”اے مالک! تیری قوم کے لوگ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے ہیں، آپ یہ مال لے جائیے اور ان میں تقسیم کر دیں“، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے علاوہ کسی دوسرے کو امیر بنا دیں، انہوں نے کہا: ”اے شخص! تو لے لے“، میں بیٹھ گیا تو ان کا غلام یرفاء آیا اور کہا: عبدالرحمن، طلحہ، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں، کیا انہیں اجازت ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ان سے کہو کہ اندر آ جائیں“، وہ اندر آئے۔ پھر یرفاء آیا اور کہا: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی ہیں، کیا انہیں بھی اجازت ہے؟ کہا: ”انہیں کہو، اندر آ جائیں“، وہ دونوں اندر آئے اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے متعلق بات کر رہا تھا، جب وہ بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کیجیے اور ان پر ترس کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم دونوں کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس کے حکم کے ساتھ آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ» ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“، تو انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر دوسرے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بنو نضیر کے اموال جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے ان میں مسلمانوں نے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائیں اور وہ حصہ خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا جسے آپ اپنے اہل و عیال پر ایک سال کے خرچ کے طور پر خرچ کرتے تھے اور جو اس سے باقی بچ جاتا اسے گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ پر لگا دیتے جو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری تھی، پھر وہ حصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13369]
تخریج الحدیث: «مسلم 1757»

الحكم على الحديث: مسلم 1757

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13369 in Urdu