السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2781. -- باب: ما يستدل به على أنه جعل سبه للمسلمين رحمة وفي ذلك كالدليل على أنه له مباح
-- باب: اس بات پر استدلال کا بیان کہ آپ ﷺ کا مسلمانوں کو برا بھلا کہنا ان کے لیے رحمت بنا دیا گیا، اور اس میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ آپ کے لیے مباح تھا
حدیث نمبر: 13383
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا، مَا أَصَابَ مِنْكَ هَذَانِ خَيْرًا، فَقَالَ:" أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي؟" قُلْتُ: وَمَا عَاهَدْتَ عَلَيْهِ رَبَّكَ؟ قَالَ:" قُلْتُ اللهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً"، وَهَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو بندے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہر شخص کو آپ سے خیر ملتی ہے اور ان دونوں کو آپ کی جانب سے بھلائی نہیں ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے رب سے کیا وعدہ کیا ہے؟“ تو میں نے کہا: کیا وعدہ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کہا: اے اللہ! جو بھی مومن ہو اور میں اس کو گالی دوں یا لعنت کروں تو اس کے عوض اس کو معاف کر دینا اور اس کو عافیت دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13383]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2600»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13383 in Urdu