🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2792. -- باب: تركه الإنكار على من شرب بوله ودمه
-- باب: آپ ﷺ کا اپنا پیشاب اور خون پینے والے پر انکار نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَانِي دَمَهُ، وَقَالَ:" ⦗١٠٧⦘ اذْهَبْ فَوَارِهِ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ سَبُعٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ" قَالَ: فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ فَشَرِبْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: صَنَعْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي قَالَ:" مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ شَرِبْتَهُ" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" مَاذَا تَلْقَى أُمَّتِي مِنْكَ؟" قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَزَادَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: فَيَرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّةَ الَّتِي كَانَتْ فِي ابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْ قُوَّةِ دَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَنْ سَلْمَانَ فِي شُرْبِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ دَمَهُ وَرُوِيَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّهُ شَرِبَهُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور فرمایا: ”اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتہ نہ چلے۔“ وہ کہتے ہیں: میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے (اس خون کا) کیا کیا؟“ میں نے عرض کیا: جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کو تجھ سے کیا کچھ پیش آئے گا!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13407]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13407 in Urdu