السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2801. -- باب: الدليل على أنه صلى الله عليه وسلم لا يقتدى به فيما خص به ويقتدى به فيما سواه
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ان خصوصیات میں آپ کی اقتدا نہیں کی جائے گی جو آپ کے ساتھ خاص ہیں، اور ان کے علاوہ دیگر امور میں آپ کی اقتدا کی جائے گی
حدیث نمبر: 13443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا أَمَرَكُمُ اللهُ بِهِ، إِلَّا وَقَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِمَّا نَهَاكُمُ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا وَقَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَمَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَحْيٌ فَقَدْ فَرَضَ اللهُ فِي الْوَحْيِ اتِّبَاعَ سُنَّتِهِ فَمَنْ قَبِلَ عَنْهُ فَإِنَّمَا قَبِلَ بِفَرْضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہو مگر میں نے تمہیں اس کا حکم دے دیا ہے، اور میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہو مگر میں نے تمہیں اس سے منع کر دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس جس معاملے میں وحی نہیں تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع فرض کر دی ہے، لہٰذا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کوئی حکم) قبول کیا اس نے اللہ عزوجل کے فرض کی بنا پر ہی قبول کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13443]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس جس معاملے میں وحی نہیں تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع فرض کر دی ہے، لہٰذا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کوئی حکم) قبول کیا اس نے اللہ عزوجل کے فرض کی بنا پر ہی قبول کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13443]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13443 in Urdu