السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2804. -- باب: استحباب التزوج بذات الدين
-- باب: دین دار عورت سے نکاح کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13467
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" قَالَ: ثَيِّبًا قَالَ:" أَفَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَانَ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ قَالَ:" فَذَاكَ أَمَا إِنَّ امْرَأَةً" تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت سے شادی کر لی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تو نے شادی کی ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری ہے یا شادی شدہ ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا کہ شادی شدہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری عورت سے شادی کیوں نہیں کی؟ کہ وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔“ تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بہنیں تھیں تو میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان داخل ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت سے نکاح مال، دین یا پھر جمال کی وجہ سے کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں تو دین والی کو ترجیح دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 715»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13467 in Urdu