السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2812. -- باب: سبب نزول آية الحجاب
-- باب: آیتِ حجاب کے شانِ نزول کا بیان
حدیث نمبر: 13507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ لِبَعْضِ حَاجَاتِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَسِيمَةً يَفْرَعُ النِّسَاءَ جِسْمُهَا لَا تَخْفَى عَلَى مَنْ يَعْرِفُهَا، فَرَآهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ قَالَ: فَانْكَفَأَتْ رَاجِعَةً وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى وَفِي يَدِهِ عَرْقٌ، فَدَخَلَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي خَرَجْتُ فَقَالَ عُمَرُ كَذَا وَكَذَا، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَأَنَّ الْعَرْقَ فِي يَدِهِ مَا وَضَعَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ" قَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ" قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي الْبُرَازَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرُهُمْ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پردے کی آیت نازل ہونے کے بعد سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کسی کام کے لیے نکلیں، وہ ایک بھاری بھرکم خاتون تھیں اور وہ ان سے چھپ نہیں سکتی تھیں جو انہیں پہچانتا ہو، ان کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! اے سودہ! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں، دیکھو تو تم کیسے نکلتی ہو۔“ راوی کہتا ہے کہ وہ الٹے پاؤں واپس آگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہڈی تھی۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قضائے حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس طرح کی باتیں کیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوگئی، تھوڑی دیر بعد جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو ہڈی اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13507]
تخریج الحدیث: «بخاري 4795»
الحكم على الحديث: بخاري 4795
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13507 in Urdu