السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2818. -- باب: مساواة المرأة الرجل في حكم الحجاب والنظر إلى الأجانب
-- باب: پردے کے حکم اور اجنبیوں کو دیکھنے میں عورت کا مرد کے برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13529
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَكَانَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَعَهَا فِي الْحِصْنِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ غزوہ احزاب والے دن بنو حارثہ کے قلعہ میں تھیں اور ام سعد بن معاذ ان کے ساتھ تھیں، یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصے میں ابولبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں (دے دو)“ کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا: ابولبابہ! خوش ہو جا، اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کر لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13529]
ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصے میں ابولبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں (دے دو)“ کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا: ابولبابہ! خوش ہو جا، اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کر لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13529]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13529 in Urdu