🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2838. جماع أبواب ما على الأولياء وإنكاح الآباء البكر بغير إذنها ووجه النكاح والرجل يتزوج أمته ويجعل عتقها صداقها وغير ذلك -- باب: قول الله تعالى: {وأنكحوا الأيامى منكم والصالحين من عبادكم وإمائكم} [النور: ٣٢] وأنه يحتمل أن يكون دلهم على ما فيه رشدهم بالنكاح
باب: اولیاء کی ذمہ داریوں، باپوں کا کنواری بیٹی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے، نکاح کے طریقے، اور آدمی کا اپنی لونڈی سے نکاح کر کے اس کی آزادی کو اس کا حق مہر مقرر کرنے اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ”اور تم میں سے جو مرد یا عورتیں بے نکاح ہوں، اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہوں، ان کا نکاح کر دو“ [النور: 32] اور اس بات کا بیان کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نکاح کے ذریعے اس راستے کی رہنمائی فرمائی ہو جس میں ان کی بھلائی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ فِي مَعْنَى النَّهْيِ فَيَكُونَانِ لَازِمَيْنِ إِلَّا بِدَلَالَةِ أَنَّهُمَا غَيْرُ لَازِمَيْنِ، وَيَكُونُ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" أَنْ يَقُولَ: عَلَيْهِمْ إِتْيَانُ الْأَمْرِ فِيمَا اسْتَطَاعُوا؛ لِأَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كُلِّفُوا مَا اسْتَطَاعُوا وَعَلَى أَهْلِ الْعِلْمِ طَلَبُ الدَّلَائِلِ لِيُفَرِّقُوا بَيْنَ الْحَتْمِ وَالْمُبَاحِ وَالْإِرْشَادِ الَّذِي لَيْسَ بِحَتْمٍ فِي الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ مَعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئیں، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ، جس حد تک تم میں طاقت ہو اور جب تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے بچو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ امر، نہی کے معنی میں ہو تو دونوں لازم ہوں، الا یہ کہ کوئی دلیل ہو کہ وہ دونوں لازم نہیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ» ”پس تم اس میں سے جس کی تم استطاعت رکھتے ہو اسے بجا لاؤ“ کا مطلب یہ ہو کہ ان پر استطاعت کے مطابق امر کو بجا لانا لازم ہے؛ کیونکہ لوگ استطاعت ہی کے مطابق مکلف ٹھہرائے جاتے ہیں، اور اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ دلائل تلاش کریں تاکہ امر اور نہی دونوں میں حتمی (واجب)، مباح اور اس رہنمائی کے درمیان فرق کریں جو حتمی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13593]
تخریج الحدیث: «صحيح تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح تقدم

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13593 in Urdu