السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2840. -- باب: لا نكاح إلا بولي
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13623
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا كَامِلٍ الْفُضَيْلَ بْنَ الْحُسَيْنِ، يَقُولُ: ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، لِأَبِي إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ الْحَسَنُ: وَلَوْ قَالَ عَنْ أَبِيهِ، لَقَالَ: نَعَمْ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَأَبُو مُوسَى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: حَدِيثُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى عِنْدِي وَاللهُ أَعْلَمُ أَصَحُّ، وَإِنْ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ لَا يَذْكُرَانِ فِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، لِأَنَّهُ قَدْ دَلَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ أَنَّ سَمَاعَهُمَا جَمِيعًا فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ، وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ رَوَوْا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى سَمِعُوا فِي أَوْقَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، وَقَالَ: يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَدْ رَوَى هَذَا، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ أَدْرَكَ يُونُسُ بَعْضَ مَشَايِخِ أَبِيهِ، فَهُوَ قَدِيمُ السَّمَاعِ وَإِسْرَائِيلُ قَدْ رَوَاهُ وَهُوَ أَثْبَتُ أَصْحَابِ أَبِي إِسْحَاقَ بَعْدَ شُعْبَةَ، وَالثَّوْرِيِّ.
شعبہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا آپ نے ابوبردہ رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حسن کہتے ہیں: اگر وہ ”اپنے والد سے“ کہتے تو بھی وہ جی ہاں ہی کہتے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوداؤد طیالسی رحمہ اللہ سے محمود بن غیلان رحمہ اللہ اور ابو موسیٰ (محمد بن مثنیٰ) رحمہ اللہ اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کتاب العلل میں فرماتے ہیں کہ ابوبردہ کی حدیث ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔ اگرچہ سفیان ثوری رحمہ اللہ اور شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث میں ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کرتے، کیونکہ شعبہ کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں کا سماع ایک ہی وقت میں ہے، اور جن لوگوں نے «عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَىٰ» ”ابواسحاق سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے“ روایت کیا ہے، انہوں نے مختلف اوقات میں سماع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: یونس بن ابی اسحاق نے یہ حدیث اپنے والد سے روایت کی ہے اور یونس نے اپنے والد کے بعض شیوخ کو پایا ہے، لہٰذا ان کا سماع پرانا ہے، اور اسرائیل نے بھی اسے روایت کیا ہے اور وہ شعبہ اور ثوری کے بعد ابواسحاق کے شاگردوں میں سب سے زیادہ ثبت ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13623]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13623 in Urdu