السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2840. -- باب: لا نكاح إلا بولي
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
حدیث نمبر: 13653
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا" زَوَّجَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنَ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: مِثْلِي يُصْنَعُ هَذَا بِهِ وَيُفْتَاتُ عَلَيْهِ؟ فَكَلَّمَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا الْمُنْذِرَ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا كُنْتُ لِأَرُدَّ أَمْرًا قَضَيْتِهِ، فَقَرَّتْ حَفْصَةُ عِنْدَ الْمُنْذِرِ"، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا، إِنَّمَا أُرِيدَ بِهِ أَنَّهَا مَهَّدَتْ تَزْوِيجَهَا، ثُمَّ تَوَلَّى عَقْدَ النِّكَاحِ غَيْرُهَا، فَأُضِيفَ التَّزْوِيجُ إِلَيْهَا لِإِذْنِهَا فِي ذَلِكَ وَتَمْهِيدِهَا أَسْبَابَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے حفصہ بنت عبد الرحمن کی شادی منذر بن زبیر سے کی اور عبد الرحمن شام میں موجود نہیں تھے، جب عبد الرحمن تشریف لائے تو کہا: کیا میرے جیسے شخص کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے اور مجھ سے پوچھے بغیر فیصلہ کر لیا جاتا ہے؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے منذر بن زبیر سے بات کی، منذر نے کہا: یہ معاملہ تو عبد الرحمن کے سپرد ہے، عبد الرحمن نے کہا: آپ نے جو فیصلہ کر دیا میں اس کو رد نہیں کروں گا۔ تو حفصہ منذر کے پاس رہیں اور یہ طلاق نہیں تھی، اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نکاح کے لیے رہنمائی کی۔ پھر عقد نکاح کسی اور نے منعقد کروایا تو تزویج کی نسبت ان کی طرف اس اجازت اور رہنمائی کی وجہ ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13653]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 1182»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13653 in Urdu