🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
286. -- باب: ما ورد في المسح على النعلين
-- باب: جوتوں پر مسح کرنے کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ بِالرَّحْبَةِ بَالَ قَائِمًا حَتَّى أَدْعَى فَأُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَاسْتَنْشَقَ وَتَمَضْمَضَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْحَدِرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَأَمَّ النَّاسَ" قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِذَا رَأَيْتَ أَبَا ظَبْيَانَ فَأَخْبَرْنِي فَرَأَيْتُ أَبَا ظَبْيَانَ قَائِمًا فِي الْكُنَاسَةِ فَقُلْتُ: هَذَا أَبُو ظَبْيَانَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حِينَ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يُخَالِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا مَسْحُهُ عَلَى النَّعْلَيْنِ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ فِي النَّعْلَيْنِ وَالْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ لِأَنَّ الْمَسْحَ رُخْصَةٌ لِمَنْ تَغَطَّتْ رِجْلَاهُ بِالْخُفَّيْنِ فَلَا يُعَدَّانِهَا مَوْضِعَهَا قَالَ: وَالْأَصْلُ وُجُوبُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ إِلَّا مَا خَصَّتْهُ سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ أَوْ إِجْمَاعٌ لَا يُخْتَلَفُ فِيهِ وَلَيْسَ عَلَى الْمَسْحِ عَلَى النَّعْلَيْنِ وَلَا عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَاحِدٌ مِنْهُمَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابوظبیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو رحبہ جگہ میں دیکھا، انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، یہاں تک کہ وہ جھاگ بن گیا، پھر پانی کا ایک برتن لایا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ناک میں پانی چڑھایا اور کلی کی، پھر اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کی ایک ہتھیلی لی اس کو اپنے سر پر رکھا یہاں تک کہ میں نے پانی کو دیکھا وہ آپ کی داڑھی پر گر رہا تھا، پھر جوتیوں پر مسح کیا، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو اپنی جوتیاں اتاریں، آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (ب) اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو بتایا تو انہوں نے کہا: جب تو ابوظبیان کو دیکھے تو مجھے بتلا، میں نے اسے کناسہ میں دیکھا تو انہیں بتایا، انہوں نے اس سے حدیث کے متعلق سوال کیا۔ (ج) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو بیان کیا تو پاؤں دھوئے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔ ان کا جوتوں پر مسح کرنا اس پر محمول ہے کہ جب پاؤں دھو کر جوتے پہنے ہوں۔ مسح کی رخصت اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے پاؤں موزوں سے ڈھانپے ہوں، لہٰذا اسے اس کی جگہ سے آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ اصل پاؤں دھونا ہی واجب ہے، البتہ ان صورتوں میں نہیں جن میں کوئی سنتِ مشہورہ یا اجماع ہو، اور جوتوں اور جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 2000»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1366 in Urdu