🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2864. -- باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما
-- باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13782
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ، عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ، مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ أُخْتِي أُشَاوِرُهُ فِي ذَلِكَ قَالَ:" فَأَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا؟" قَالَتْ: مَنْ؟ قَالَ:" زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ"، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ: تُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلَاكَ، ثُمَّ أَتَتْنِي، فَأَخْبَرَتْنِي بِذَلِكَ، فَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا، وَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ} [الأحزاب: ٣٦] قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ زَوِّجْنِي مَنْ شِئْتَ قَالَتْ: فَزَوَّجَنِي مِنْهُ، فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي، فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللهَ"، ثُمَّ أَخَذْتُهُ بِلِسَانِي، فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَنَا أُطَلِّقُهَا، فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي لَمْ أَشْعُرْ إِلَّا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَكْشُوفَةُ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: هَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِلَا خِطْبَةٍ وَلَا شَهَادَةٍ قَالَ:" اللهُ الْمُزَوِّجُ وَجِبْرِيلُ الشَّاهِدُ"، وَهَذَا وَإِنْ كَانَ إِسْنَادُهُ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ، فَمَشْهُورٌ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَهِيَ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأُمُّهَا أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ عَمَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ حَتَّى طَلَّقَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا وَكَذَا فِي الْحَدِيثِ ابْنَةُ عَمِّكَ وَالصَّوَابُ ابْنَةُ عَمَّتِكَ.
سیدتہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کئی صحابہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اپنی بہن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس کو کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی تعلیم دے۔“ کہنے لگی: وہ کون؟ فرمایا: ”زید بن حارثہ۔“ تو وہ ناراض ہو گئی اور کہنے لگی: آپ اپنے چچا کی بیٹی کا نکاح اپنے غلام سے کرو گے؟ تو زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میری بہن نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے بھی سخت بات کہی اور زیادہ غصے ہوئی تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ [سورة الأحزاب: 36] ”اور کسی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرما دیں تو انھیں اپنے معاملے میں اختیار ہو۔“ کہتی ہیں: میں نے کہا: جس سے چاہو نکاح کر دو۔ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے میرا نکاح کر دیا، میں نے زبان درازی کی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ پھر میں نے زبان درازی کی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شکایت کی اور کہنے لگے: میں اس کو طلاق دیتا ہوں، انھوں نے مجھے طلاقِ بائنہ دے دی، جب میری عدت ختم ہوئی تو مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ میرے کھلے ہوئے بالوں کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: یہ آسمان کا معاملہ ہے۔ میں نے کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! بغیر خطبہ اور گواہ کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نکاح کرنے والا اور جبرائیل گواہ ہے۔“
(ب) اس کی سند اگرچہ ایسی ہے کہ اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، لیکن یہ بات مشہور ہے کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا یہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں اور ان کی والدہ امیمہ رضی اللہ عنہا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں اور زینب رضی اللہ عنہا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ جب انھوں نے طلاق دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی اور حدیث میں «ابْنَةَ عَمِّكَ» ہے لیکن درست الفاظ «ابْنَةَ عَمَّتِكَ» ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13782]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13782 in Urdu