السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2874. -- باب: الكلام الذي ينعقد به النكاح
-- باب: ان کلمات کا بیان جن سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 13823
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ: مَا لِي فِي النِّسَاءِ حَاجَةٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُسْلِمِينَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" مَاذَا عِنْدَكَ؟" قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ:" أَعْطِهَا ثَوْبًا" قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ:" مَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، هَذَا حَدِيثُ خَلَفٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ" فَقَدْ زَوَّجْنَاكَهَا". وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، وَرَوَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ:" زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ"، فَرِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَلَى لَفْظِ التَّزْوِيجِ إِلَّا رِوَايَةَ الشَّاذِّ مِنْهَا، وَالْجَمَاعَةُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِمَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحَجِّ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ:" فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ" قَالَ أَصْحَابُنَا: وَهِيَ كَلِمَةُ النِّكَاحِ وَالتَّزْوِيجِ اللَّذَيْنِ وَرَدَ بِهِمَا الْقُرْآنُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو حازم حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس نے کہا کہ ایک عورت نے اپنا نفس اللہ اور رسول کے لیے ہبہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے آج کے دن عورت کی ضرورت نہیں ہے“، تو کمزور مسلمانوں میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا نکاح میرے ساتھ کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا ہے؟“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کپڑا ہی دے دو“۔ وہ شخص کہنے لگا: میں نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو لوہے کی انگوٹھی ہی دے دو“۔ اس شخص نے کہا: میں نہیں پاتا، یعنی میرے پاس موجود نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں نے قرآن کے عوض تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے“۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔
(ذ) جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں سوائے اس روایت کے جو شاذ ہے، اور جماعت ایک راوی کے مقابلے میں یاد رکھنے کی زیادہ حق دار ہے، واللہ اعلم۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے“۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13823]
(ب) ابو ربیع کی روایت میں ہے کہ تحقیق ”ہم نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے“۔
(ج) ابو حازم حضرت سہل سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اس کا مالک بنا دیا ہے قرآن کے بدلے جو آپ کو یاد ہے“۔
(د) ابو غسان محمد بن مطرف سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔
(ذ) جمہور تو لفظ تزویج نقل کرتے ہیں سوائے اس روایت کے جو شاذ ہے، اور جماعت ایک راوی کے مقابلے میں یاد رکھنے کی زیادہ حق دار ہے، واللہ اعلم۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو لیا ہوا ہے، اللہ کی امانت کی وجہ سے اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ (یعنی نکاح) کی وجہ سے حلال کیا ہے“۔ لفظ نکاح اور تزوج دونوں قرآن میں آئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13823]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13823 in Urdu