السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2877. -- باب: ما يستحب للولي من الخطبة والكلام
-- باب: ولی کے لیے خطبہ دینے اور گفتگو کرنے کے ان طریقوں کا بیان جو مستحب ہیں۔
حدیث نمبر: 13833
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا أَنْكَحَ قَالَ:" أُنْكِحُكَ عَلَى مَا أَمَرَ اللهُ بِهِ إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ".
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نکاح پڑھاتے تو فرماتے: میں تیرا نکاح ویسے کرتا ہوں جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] ”یا تو بھلائی سے چھوڑ دینا ہے یا اچھائی سے روکے رکھنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13833]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13833 in Urdu