السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2885. -- باب: الرجل يطلق أربع نسوة له طلاقا بائنا حل له أن ينكح مكانهن أربعا
-- باب: اس شخص کا بیان جو اپنی چار بیویوں کو طلاقِ بائن دے دے تو اس کے لیے حلال ہے کہ ان کی جگہ مزید چار عورتوں سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: Q13850
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ لَا زَوْجَ لَهُ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى انْقِطَاعِ الزَّوْجِيَّةِ بِانْقِطَاعِ أَحْكَامِهَا مِنَ الْإِيلَاءِ وَالظِّهَارِ وَاللِّعَانِ وَالْمِيرَاثِ وَغَيْرِ ذَلِكَ قَالَ: وَهُوَ قَوْلُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعُرْوَةَ وَأَكْثَرِ أَهْلِ دَارِ السُّنَّةِ وَحَرَّمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ اب اس کی کوئی بیوی نہیں اور نہ اس پر کوئی عدت ہے۔“
اور انہوں نے زوجیت کے ختم ہو جانے پر اس بات سے استدلال کیا کہ اس کے احکام، یعنی ایلاء، ظہار، لعان اور میراث وغیرہ، ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: ”اور یہی قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عروہ (رحمہم اللہ) اور دار السنہ (مدینہ منورہ) کے اکثر اہلِ علم کا قول ہے، اور اللہ عزوجل نے حرام فرمایا...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13850]
اور انہوں نے زوجیت کے ختم ہو جانے پر اس بات سے استدلال کیا کہ اس کے احکام، یعنی ایلاء، ظہار، لعان اور میراث وغیرہ، ختم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: ”اور یہی قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، عروہ (رحمہم اللہ) اور دار السنہ (مدینہ منورہ) کے اکثر اہلِ علم کا قول ہے، اور اللہ عزوجل نے حرام فرمایا...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q13850]
حدیث نمبر: 13850
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ كَانَا يَقُولَانِ" فِي الرَّجُلِ تَكُونُ عِنْدَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ فَيُطَلِّقُ إِحْدَاهُنَّ الْبَتَّةَ، أَنَّهُ يَتَزَوَّجُ إِذَا شَاءَ، وَلَا يَنْتَظِرُ حَتَّى تَمْضِيَ عِدَّتُهَا".
عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد رحمہما اللہ دونوں اس شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس کے پاس چار بیویاں ہوں کہ اگر وہ ان میں سے ایک کو طلاقِ بائنہ دے دے، تو وہ جب چاہے شادی کر سکتا ہے اور وہ اس کی عدت گزرنے کا انتظار بھی نہ کرے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13850]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13850 in Urdu