السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2889. -- باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها
-- باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13881
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ أَنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ:" إِنَّ الزَّانِيَ الْمَجْلُودَ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَهُ"، فَقَالَ عَمْرٌو: وَمَا يُعْجِبُكَ؟ حَدَّثَنَاهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنَادِي بِهَا نِدَاءً، فَهَكَذَا رَوَاهُ عَمْرٌو وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي سَبَبِ نُزُولِ الْآيَةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِ تِلْكَ الْبَغَايَا، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَمِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِمَّا لِشِرْكِهِنَّ وَإِمَّا لِشَرْطِهِنَّ إِرْسَالَهُنَّ لِلزِّنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت حبیب معلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ سے ایک شخص حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: حضرت حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ حد لگائی گئی زانیہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے، تو عمرو رحمہ اللہ کہنے لگے: آپ کو تعجب کس چیز کا ہے؟ ہمیں یہ حدیث سعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔
(ج) حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سببِ نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔
(د) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13881]
(ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔
(ج) حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سببِ نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔
(د) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13881]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13881 in Urdu