السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2890. -- باب: لا عدة على الزانية ومن تزوج امرأة حبلى من زنا لم يفسخ النكاح
-- باب: اس بیان میں کہ زانی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے اور جو شخص زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کر لے تو اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13892
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَرْسَلُوهُ. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ بَصْرَةَ بْنَ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً قَالَ: وَكُلُّهُمْ قَالَ فِي حَدِيثِهِ: جَعَلَ الْوَلَدَ عَبْدًا لَهُ..
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کر لیا اور ان سب نے اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ ”بچہ اس کا غلام ہو گا۔“
قتادہ نے یہ حدیث سعید بن یزید عن ابن مسیب سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے یزید بن نعیم عن سعید بن مسیب سے، اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے، ان سب نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13892]
قتادہ نے یہ حدیث سعید بن یزید عن ابن مسیب سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے یزید بن نعیم عن سعید بن مسیب سے، اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے، ان سب نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13892]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13892 in Urdu