السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2900. -- باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين
-- باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13932
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ⦗٢٦٦⦘ هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهُمَا جَمِيعًا" وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَنْ أُجِيزَهُمَا.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ماں اور بیٹی جو کسی ایک کی ملکیت میں ہوں، کیا ان میں سے ایک کے ساتھ مجامعت کے بعد دوسری سے مجامعت کی جائے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں ان دونوں کو اکٹھے جائز خیال نہیں کرتا۔ احمد کی روایت میں ہے کہ میں ان کو جائز خیال نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13932]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1143»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13932 in Urdu