السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2905. جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، فَدِينُنَا خَيْرُ الْأَدْيَانِ، وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ، وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِهِمْ، وَلَا يَكُونُ رِجَالُهُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا" قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا النُّعْمَانُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ الَّذِي يَحِلُّ نِكَاحُ حَرَائِرِهِمْ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ الْمَشْهُورَيْنِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: وَهُمُ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، دُونَ الْمَجُوسِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَحَمَلَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِرِوَايَةٍ بِحَالَةٍ عَلَى الْجِزْيَةِ فَهُمْ مُلْحَقُونَ بِهِمْ فِي حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْيَةِ دُونَ غَيْرِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد ہماری عورتوں پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔
ابو القاسم کہتے ہیں: اسے سفیان سے صرف نعمان نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح حلال ہے وہ دو مشہور کتابوں تورات اور انجیل والے ہیں، یعنی بنی اسرائیل کے یہودی اور عیسائی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، چنانچہ وہ جزیہ کے ذریعے جان محفوظ ہونے میں ان (اہل کتاب) کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13986]
ابو القاسم کہتے ہیں: اسے سفیان سے صرف نعمان نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح حلال ہے وہ دو مشہور کتابوں تورات اور انجیل والے ہیں، یعنی بنی اسرائیل کے یہودی اور عیسائی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، چنانچہ وہ جزیہ کے ذریعے جان محفوظ ہونے میں ان (اہل کتاب) کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13986 in Urdu