السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2906. -- باب: من دان دين اليهود والنصارى من الصابئين، والسامرة
-- باب: صابیوں اور سامریوں میں سے ان لوگوں کا بیان جو یہودیت اور عیسائیت کے دین کی پیروی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 13989
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: كَتَبَ عَامَلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ نَاسًا مِنْ قِبَلِنَا يُدْعَوْنَ السَّامِرَةَ يَسْبِتُونَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَيَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، وَلَا يُؤْمِنُونَ بِيَوْمِ الْبَعْثِ، فَمَا تَرَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي ذَبَائِحِهِمْ؟ قَالَ: فَكَتَبَ" هُمْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ذَبَائِحُهُمْ ذَبَائِحُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
غفیف بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گورنر نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ کچھ لوگ ہمارے علاقے میں ہیں جن کو سامرہ کہا جاتا ہے، وہ ہفتے کے دن مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں اور توراۃ کی تلاوت کرتے ہیں، لیکن قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے؛ اے امیر المومنین! ان کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ یہ اہل کتاب ہیں، ان کے ذبیحہ کا حکم اہل کتاب کے ذبیحہ والا ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13989]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم برقم 139842»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13989 in Urdu