السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2910. -- باب: من زعم أن نكاح الحرة على الأمة طلاق الأمة
-- باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کرنا لونڈی کو طلاق دینے کے مترادف ہے۔
حدیث نمبر: 14009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ:" إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرُّ عَلَى الْأَمَةِ، فَهُوَ طَلَاقُ الْأَمَةِ هُوَ كَصَاحِبِ الْمَيْتَةِ يَأْكُلُ مِنْهَا مَا اضْطُرَّ إِلَيْهَا فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيُمْسِكْ"، نَحْنُ إِنَّمَا نَقُولُ بِمَا رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آپ لونڈی کے ہوتے ہوئے آزاد عورت سے نکاح کریں تو یہ لونڈی کی طلاق ہے، یہ مردار کی مانند ہے جس کو مجبوری کے وقت کھایا جاتا ہے۔ جب وہ اس سے مستغنی ہو جائے تو رک جائے۔ ہم تو اس مسئلہ میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے سیدنا علی اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14009]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابن منصور 7332»
الحكم على الحديث: اخرجه ابن منصور 7332
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14009 in Urdu