السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2913. جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: Q14015
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ} [البقرة: 235] الْآيَةَ.
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ﴾ ”اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (عدت والی) عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو۔“ [سورة البقرة: 235] (الآیة) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: Q14015]
حدیث نمبر: 14015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ" أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَالَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ" وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:" تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتُبِطْتُ بِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: لَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ.
سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ غائب تھے۔ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے وکیل نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو کچھ جو دیے جن کی وجہ سے وہ ناراض ہو گئیں تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے ذمہ تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے“ اور فرمایا: ”تو ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر عدت گزار لے۔“ پھر فرمایا: ”وہاں میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس عورت کے پاس آنا جانا رہتا ہے، آپ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزار لیں، وہ نابینا صحابی ہیں، کبھی آپ کا کپڑا اتر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ جب عدت گزر گئی تو میں نے بتایا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور ابو جہم رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیں۔“ کہتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ کہتی ہیں: میں نے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1480»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14015 in Urdu