السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2913. جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 14017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَنْظَلَةَ الْغَسِيلُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي سَكِينَةُ بِنْتُ حَنْظَلَةَ، وَكَانَتْ بِقِبَا تَحْتَ ابْنِ عَمٍّ لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَنَا فِي عِدَّتِي، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ أَصْبَحْتِ يَا بِنْتَ حَنْظَلَةَ؟ فَقُلْتُ: بِخَيْرٍ وَجَعَلَكَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَقَالَ: أَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتِ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَابَتِي مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحَقِّي فِي ⦗٢٨٩⦘ الْإِسْلَامِ وَشَرَفِي فِي الْعَرَبِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا جَعْفَرٍ، أَنْتَ رَجُلٌ يُؤْخَذُ مِنْكَ وَيُرْوَى عَنْكَ تَخْطُبُنِي فِي عِدَّتِي؟ فَقَالَ: مَا فَعَلْنَا إِنَّمَا أَخْبَرْتُكِ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ، وَتَأَيَّمَتْ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّهَا، فَلَمْ يَزَلْ يُذَكِّرُهَا بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى حَتَّى أَثَّرَ الْحَصِيرُ فِي كَفِّهِ مِنْ شِدَّةِ مَا كَانَ يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ، فَمَا كَانَتْ تِلْكَ خِطْبَةً".
عبدالرحمن بن حنظلہ رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں جو قباء میں اپنے چچا کے بیٹے کے نکاح میں تھیں، وہ فوت ہوگئے، کہتی ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی رحمہ اللہ عدت کے اندر میرے پاس آئے، سلام کہا اور پوچھنے لگے: ”اے بنت حنظلہ! کیسی صبح کی؟“ میں نے کہا: ”بہتر، اللہ نے اس میں بہتری رکھی۔“ کہنے لگے: ”میری قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ سے ہے اور میرا حق اسلام میں ہے اور عرب میں میرا مقام ہے۔“ میں نے کہا، یعنی سکینہ بنت حنظلہ رضی اللہ عنہما نے: ”اے ابو جعفر! اللہ آپ کو معاف کرے، آپ ایسے آدمی ہیں جن سے (علم) لیا جاتا ہے اور جن سے روایت کی جاتی ہے، کیا آپ میری عدت میں مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت داری کا تذکرہ کیا ہے،“ پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ مخزومیہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، جو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جو ان کے چچا کا بیٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے ہاں ان کے مرتبہ کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ چٹائی کے نشانات ان کی ہتھیلی پر ظاہر ہوگئے، ”یہ پیغامِ نکاح تو نہ تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14017]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14017 in Urdu