🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2931. -- باب: نكاح المتعة
-- باب: نکاح متعہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14155
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ، فَقَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اقْضِ قَضَاءً كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، قَالَ:" إِنَّ اللهَ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجَّتِكُمْ هَذِهِ عَمْرَةً فَإِذَا أَنْتُمْ قَدِمْتُمْ فَمَنْ تَطَوَّفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَحِلُّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْهَدْيِ"، فَلَمَّا أَحْلَلْنَا قَدِ اسْتَمْتَعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا التَّزْوِيجُ فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ يَضْرِبْنَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" افْعَلُوا"، فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِي بُرْدٌ وَمَعَهُ بُرْدٌ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَأَعْجَبَهَا بُرْدُهُ، وَأَعْجَبَهَا شَبَابِي، قَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، فَبِتُّ عِنْدَهَا لَيْلَةً فَأَصْبَحْتُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ، وَالْمَقَامِ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ أَلَا وَإِنِّي قَدْ حَرَّمْتُ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا"،.
ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے اور عسفان نامی جگہ پر پڑاؤ کیا تو بنو مدلج کا ایک آدمی کھڑا ہوا، جو سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ رضی اللہ عنہ تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فیصلہ فرمائیں گویا کہ وہ آج ہی پیدا کیے گئے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے حج میں عمرہ بھی داخل کر دیا ہے، جس وقت تم مکہ آؤ تو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد تم حلال ہو لیکن جو اپنی قربانی ساتھ لائے وہ حلال نہیں ہے۔“ جب ہم حلال ہو گئے، فرمایا: ”عورتوں سے متعہ کر لیا کرو۔“ اور متعہ ہمارے نزدیک نکاح کرنا ہے، ہم نے عورتوں پر پیش کیا تو انہوں نے معین مدت کا مطالبہ کر دیا، تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہی کرو۔“ کہتے ہیں: میں اور میرے چچا کا بیٹا نکلے، ہمارے پاس چادریں تھیں اور اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس سے خوبصورت تھا، ہم ایک عورت کے پاس آئے تو اسے میری خوبصورتی اور جوانی اور اس کی چادر پسند آئی تو وہ کہنے لگی کہ چادر چادر جیسی ہے، تو میرے اور اس کے درمیان دس دن کی مدت مقرر ہوئی، میں نے اس کے پاس رات گزاری، جب صبح کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے تھے اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے نکاحِ متعہ کی اجازت دی تھی، لیکن اب میں قیامت تک اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ جس کی کوئی چیز ان عورتوں کے پاس باقی ہو وہ ان کا راستہ چھوڑ دے اور کچھ واپس نہ لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14155]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14155 in Urdu