السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2937. -- باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه
-- باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14243
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ:" هَلْ تَكُونُ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" مَا أَلْوَانُهَا؟" قَالَ: حُمْرٌ قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" بِمَ ذَاكَ؟" قَالَ: ذَاكَ عِرْقٌ نَزَعَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَعَلَّ ابْنَكَ نَزَعَهُ عِرْقٌ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنم دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کی رنگت کیا ہے؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ان میں خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیوں؟“ اس نے کہا: شاید کسی رگ نے اس کو کھینچا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اس کو کسی رگ نے کھینچا ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14243]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5305»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14243 in Urdu