السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2948. -- باب: من كره العزل ومن اختلفت الرواية عنه فيه وما روي في كراهيته
-- باب: ان لوگوں کا بیان جنہوں نے عزل کو مکروہ قرار دیا، اور جن سے اس بارے میں مختلف روایات مروی ہیں، نیز اس کی کراہت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٣٧٨⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، أُخْتِ عُكَاشَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ وَهُوَ يَقُولُ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ، وَفَارِسَ، فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ شَيْئًا"، وَسَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَأْدُ الْخَفِيُّ، {وَإِذَا الْمَوْءوُدَةُ} سُئِلَتْ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، وَغَيْرِهِ، عَنِ الْمُقْرِئِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَزْلِ خِلَافُ هَذَا وَرُوَاةُ الْإِبَاحَةِ أَكْثَرُ وَأَحْفَظُ، وَإِبَاحَةُ مَنْ سَمَّيْنَا مِنَ الصَّحَابَةِ فَهِيَ أَوْلَى وَتَحْتَمِلُ كَرَاهِيَةُ مَنْ كَرِهَهُ مِنْهُمُ التَّنْزِيهَ دُونَ التَّحْرِيمِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا جو سیدنا عکاشہ بن وہب رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: ”میں نے ارادہ کیا کہ «الْغِيلَةِ» ”غیلہ“ سے منع کر دوں، پھر میں نے فارس اور روم میں دیکھا کہ وہ اپنی اولادوں کے ساتھ غیلہ کرتے ہیں تو وہ ان کی اولاد کو کچھ بھی نقصان نہیں دیتا۔“ اور انہوں نے عزل کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «الْوَأْدُ الْخَفِيُّ» ”مخفی انداز سے زندہ درگور کرنا“ ہے، ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ [سورة التكوير: 8] جب زندہ درگور کی ہوئی سے پوچھا جائے گا۔“
نوٹ: عزل کی روایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ منقول اور جواز کی ہیں لیکن جس نے اسے مکروہ خیال کیا تو یہ تنزیہی ہے نہ کہ حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14330]
نوٹ: عزل کی روایات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ منقول اور جواز کی ہیں لیکن جس نے اسے مکروہ خیال کیا تو یہ تنزیہی ہے نہ کہ حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 14330]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1442»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14330 in Urdu