السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2954. -- باب: النكاح على تعليم القرآن
-- باب: قرآن مجید سکھانے پر (بطورِ مہر) نکاح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14398
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ:" الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ..
ابو حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے“، وہ زیادہ دیر کھڑی رہی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میرا نکاح کر دیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟“ وہ کہتا ہے: ”میری یہ چادر ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چادر تو نے اس کو دے دی تو پھر تو بغیر چادر کے رہ جائے گا، کچھ تلاش کرو“، اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو“، تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ کہنے لگا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے“، اس نے نام لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14398]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه، وقد تقدم كثيرا»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14398 in Urdu