السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2957. -- باب: أحد الزوجين يموت ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها
-- باب: میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کر جانے کا بیان درآں حالیکہ عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس سے ہم بستری کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 14410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ قَالَ: قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي أَنَّهُ" قَضَى فِي بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ وَنُكِحَتْ بِغَيْرِ مَهْرٍ فَمَاتَ زَوْجُهَا فَقَضَى لَهَا بِمَهْرِ نِسَائِهَا وَقَضَى لَهَا بِالْمِيرَاثِ" فَإِنْ كَانَ يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ أَوْلَى الْأُمُورِ بِنَا وَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَثُرُوا وَلَا فِي قِيَاسٍ وَشَيْءٍ فِي قَوْلِهِ إِلَّا طَاعَةَ اللهِ بِالتَّسْلِيمِ لَهُ، وَإِنْ كَانَ لَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يُثْبِتَ عَنْهُ مَا لَمْ يَثْبُتْ وَلَمْ أَحْفَظْهُ بَعْدُ مِنْ وَجْهٍ يُثْبِتُ مِثْلَهُ هُوَ مَرَّةً، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ وَمَرَّةً عَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ وَمَرَّةً عَنْ بَعْضِ أَشْجَعَ لَا يُسَمَّى فَإِذَا مَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَلَا مَهْرَ لَهَا وَلَا مُتْعَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ بِرْوَعِ بِنْتِ وَاشِقٍ: هَذَا الِاخْتِلَافُ الَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ لَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ إِمَامٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، روایت کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں فیصلہ سنایا، جن کا نکاح حقِ مہر کے بغیر ہوا تھا اور پھر ان کا خاوند فوت ہو گیا۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہرِ مثل کا حکم دیا اور میراث کا فیصلہ دیا“، اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو تو یہ ہمارے نزدیک سب سے مقدم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا قول قابلِ حجت نہیں، خواہ کہنے والے کتنے ہی زیادہ ہوں، اور نہ ہی قیاس حجت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے سامنے صرف اللہ کی اطاعت ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ اور اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو تو کسی کو حق نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ بات منسوب کرے جو ثابت نہیں، اور مجھے اب تک یہ روایت کسی ایسی سند سے معلوم نہیں ہوئی جس جیسی سند ثابت ہوتی ہو؛ کبھی اسے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے، کبھی معقل بن سنان رضی اللہ عنہ سے اور کبھی قبیلہ اشجع کے کسی ایسے شخص سے بیان کیا جاتا ہے جس کا نام نہیں لیا جاتا۔
لہٰذا جب میاں یا بیوی فوت ہو جائے تو عورت کے لیے نہ حقِ مہر ہے اور نہ فائدہ (متعہ)۔
شیخ رحمہ اللہ بروع بنت واشق کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ وہ اختلاف ہے جس کا ذکر امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ہے، لیکن عبدالرحمن بن مہدی ائمہ حدیث میں سے ایک امام ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14410]
لہٰذا جب میاں یا بیوی فوت ہو جائے تو عورت کے لیے نہ حقِ مہر ہے اور نہ فائدہ (متعہ)۔
شیخ رحمہ اللہ بروع بنت واشق کی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ وہ اختلاف ہے جس کا ذکر امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ہے، لیکن عبدالرحمن بن مہدی ائمہ حدیث میں سے ایک امام ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14410]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14410 in Urdu