🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2962. -- باب: الشروط في النكاح
-- باب: نکاح میں شرائط عائد کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ إِلِيَّ فَقَالَتْ: يَا عَائِشَةُ إِنِّي كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى سَبْعَةِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَنَفِسَتْ فِيهَا:" ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِيَهُمْ ذَلِكَ جَمِيعًا وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لِي فَعَلْتُ"، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا وَقَالُوا: إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ وَيَكُونُ وَلَاؤُكِ لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ مِنْهَا ⦗٤٠٦⦘ ابْتَاعِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" فَفَعَلَتْ وَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى، وَلَا سُنَّةِ نَبِيِّهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَى عَنْهُ:" الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا"، وَمُفَسَّرُ حَدِيثِهِ يَدُلُّ عَلَى جُمْلَتِهِ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہنے لگیں: ”اے عائشہ! میں نے اپنے گھر والوں سے سات اوقیوں پر مکاتبت کی ہے اور ایک اوقیہ سال میں ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں۔“ اور انہوں نے کتابت کی رقم میں سے ابھی کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، اور وہ اس میں رغبت بھی رکھتی تھیں: ”اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ، اگر وہ پسند کریں تو میں ساری رقم اکٹھی ادا کر دیتی ہوں اور ولاء میری ہو گی۔“ تو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے جا کر یہ بات اپنے گھر والوں پر پیش کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور کہنے لگے: اگر وہ تیرے اوپر احسان کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن ولاء ہماری ہو گی۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کوئی چیز نہ روکے، خرید کر آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“ تو انہوں نے ایسا کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہیں اور نہ اس کے نبی کی سنت میں؟ اور جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے، اگرچہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کی قضا کو پورا کرنا زیادہ درست ہے اور اللہ کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے: مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر وہ شرط جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مفصل حدیث اس مجمل حدیث کی وضاحت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14432]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14432 in Urdu