السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2967. -- باب: المرأة تصلح أمرها للدخول بها
-- باب: عورت کا خلوت کے لیے اپنی تیاری اور زیب و زینت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14468
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو أُسَامَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتِّ سِنِينَ وَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ قَالَتْ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا يُرَادُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ: هَهْ هَهْ حَتَّى ذَهَبَ نَفْسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي ضُحًى وَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، مُرْسَلًا مُخْتَصَرًا، وَأَخْرَجَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ فِي آخِرِ أَبْوَابِ خِطْبَةِ النِّكَاحِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ نکاح چھ سال کی عمر میں کیا جبکہ میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔ فرماتی ہیں: میں مدینہ آئی تو ایک مہینہ بخار رہا اور میرے بال (جھڑنے کے بعد) دوبارہ بڑھ کر کندھوں تک آ گئے تھے تو ام رومان رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں اور میں جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، انہوں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس آئی، لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ انہوں نے مجھے کیوں بلایا ہے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لا کر کھڑا کر دیا، میں سانس کی وجہ سے ہانپ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا سانس درست ہوا تو انہوں نے مجھے گھر میں داخل کیا۔ وہاں انصاری عورتیں تھیں، انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”آپ خیر و برکت اور ہمیشگی کی خیر پر ہیں“ تو والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا اور انہوں نے میرے سر کو دھویا اور حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انہوں نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14468]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم1422»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14468 in Urdu