السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2967. -- باب: المرأة تصلح أمرها للدخول بها
-- باب: عورت کا خلوت کے لیے اپنی تیاری اور زیب و زینت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14472
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَّسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَقَالَ:" أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟" فَقَالَ: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ:" فَهَلَّا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟" قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ:" أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ"، قَالَ: وَقَالَ:" إِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ وَغَيْرُهُ عَنْ هُشَيْمٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، جب ہم واپس پلٹے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کی طرف جلدی کی۔ پیچھے سے میرے اونٹ کو کسی سوار نے نیزے کے ذریعے کچوکا دیا تو میرا اونٹ ایسی چال چلا کہ میں نے کبھی کسی عمدہ اونٹ کو بھی ایسی چال چلتے نہ دیکھا تھا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جابر! کیسی جلدی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نئی نئی شادی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: بیوہ سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟“ جب مدینہ آئے تو ہم نے گھروں میں داخل ہونے کا قصد کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، عشاء کے وقت داخل ہونا تاکہ بکھرے بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب (سفر پر) تھا وہ زیرِ ناف بال مونڈ لے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جاؤ تو سمجھداری کا ثبوت دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14472]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 715»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14472 in Urdu