السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. -- باب الدليل على أن السواك سنة ليس بواجب
-- باب: اس دلیل کا بیان کہ مسواک سنت ہے واجب نہیں
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عُمَرَ وَفِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ، وَالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ". زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ السِّوَاكَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَأَنَّهُ اخْتِيَارٌ لِأَنَّهُ لَوْ كَانَ وَاجِبًا، أَمَرَهُمْ بِهِ شَقَّ أَوْ لَمْ يَشُقَّ. رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں انھیں عشاء کی نماز مؤخر کرنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسواک واجب نہیں بلکہ اختیاری ہے، اگر واجب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو (مسواک کرنے) حکم دیتے خواہ ان پر مشقت ہی ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسواک واجب نہیں بلکہ اختیاری ہے، اگر واجب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو (مسواک کرنے) حکم دیتے خواہ ان پر مشقت ہی ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 252»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 145 in Urdu