السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2973. -- باب: تؤدى حق الوليمة بأي طعام أطعم
-- باب: اس بیان میں کہ جو بھی کھانا کھلا دیا جائے اس سے ولیمے کا حق ادا ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 14502
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَعْقُوبَ الْإِيَادِيُّ الْمَالِكِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ النَّصِيبِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ" فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ وَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ" أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ وَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطُ وَالسَّمْنُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ؟ قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ،" فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ" ⦗٤٢٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَاهُ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ كَذَلِكَ فِي التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، وَقَالَ: فَحَاسُوا حَيْسًا، وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ السَّوِيقُ بَدَلَ الْأَقِطِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں قیام کیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ میں نے مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی جس میں روٹی اور گوشت نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم فرمایا اور اس پر کھجور، گھی اور «الأَقِطُ» ”پنیر“ کے ٹکڑے ڈال دیے گئے تو مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المومنین میں سے تھیں یا لونڈی؟ کہنے لگے: اگر انہوں نے پردہ کیا تو امہات المومنین میں سے ہیں، اگر پردہ نہ کیا تو لونڈی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنے پیچھے سواری پر جگہ بنائی اور لوگوں سے پردہ کروایا۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ تھا اور کہتے ہیں: انہوں نے حلوہ بھی بنایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں «الأَقِطُ» ”پنیر“ کی جگہ «السَّوِيقُ» ”ستو“ کے الفاظ آتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14502]
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ تھا اور کہتے ہیں: انہوں نے حلوہ بھی بنایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں «الأَقِطُ» ”پنیر“ کی جگہ «السَّوِيقُ» ”ستو“ کے الفاظ آتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14502]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1365»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14502 in Urdu